’اگر حاملہ ہونے سے پہلے خواتین اس چیز کا شکار ہوں تو حمل ضائع ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے‘ سائنسدانوں نے وارننگ جاری کردی

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) بلڈپریشر کی بیماری کے متعدد خطرات سے تو ہم آگاہ ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے جدید تحقیق میں حاملہ خواتین کے لیے اس کا ایسا نقصان بتا دیا ہے کہ کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”جو خواتین حاملہ ہونے سے پہلے بلڈپریشر کے مرض کا شکار ہوں ان کا حمل ضائع ہونے کا خدشہ 20فیصد تک بڑھ جاتا ہے اور یہ شرح متعین نہیں ہے کیونکہ بلڈپریشر کے نارمل لیول میں ہر 10mmHgاضافے پر یہ خطرہ 18فیصد زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے۔“ مثال کے طور پر اگر کسی خاتون کا بلڈپریشر نارمل لیول سے 20mmHgزیادہ ہو گا تو اس کا حمل ضائع ہونے کا خطرہ 36فیصد زیادہ ہو جائے گا۔

امریکی ریاست میری لینڈ کے یونائس کینیڈی شرائیور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 1228خواتین پر تجربات کیے جن کی عمریں 18سے 40سال کے درمیان تھیں۔یہ تمام خواتین ایسی تھی جو اس سے قبل کم از کم ایک بار اسقاط حمل کے مرحلے سے گزر چکی تھی۔ماہرین نے نتائج میں بتایا ہے کہ ”تحقیق میں شامل ایسی خواتین جو حاملہ ہونے سے پہلے ہی بلڈپریشر کی مریض تھی ان کے حمل کے 15دن بعد ہی ان کے ہارمون لیولز اشارہ دے دیا تھا کہ ان کا حمل 8ہفتے کی مدت میں داخل ہو پائے گا یا نہیں۔“ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”ہماری یہ تحقیق والدین کو ممکنہ اسقاط حمل کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنے میں مدد دے گی کیونکہ اس تحقیق میں ہم نے جو طریقہ کار اختیار کیا اس کے ذریعے ماﺅں کو قبل از وقت ممکنہ اسقاط حمل کے بارے میں بتایا جا سکتا ہے۔“