’میرے باپ کو پھیپھڑوں کا سرطان ہوا تو ڈاکٹروں نے جواب دے دیا، لیکن پھر میں نے یہ کام کر کے خود ہی ان کا علاج کردیا‘ خاتون نے کینسر کے شکار اپنے باپ کا علاج کیسے کردیا؟ جواب کوئی ڈاکٹر بھی نہیں سوچ سکتا

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک شخص کو پھیپھڑوں کا کینسر لا حق ہو گیا، جس کی تشخیص انتہائی تاخیر سے ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے اسے لاعلاج قرار دے دیا لیکن اس شخص کی بیٹی نے ایسے طریقے سے اپنے باپ کا علاج کرنا شروع کر دیا کہ اس کی صحت مندی دیکھ کر ڈاکٹر بھی ششدر رہ گئے۔ میل آن لائن کے مطابق لیزلے گبسن نامی اس خاتون کا 71سالہ باپ موت کے منہ میں جا رہا تھا، ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ ایک سال کے اندر اس کی موت واقع ہو جائے گی لیکن لیزلے گبسن انسان کی طبعی توانائی کے ذریعے علاج پر یقین رکھتی تھی۔ یہ ایک تصور ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ ہر انسان کے گرد ایک طبعی توانائی کا حالہ ہوتا ہے جس کے ذریعے مختلف بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہے۔ اس طریقہ علاج میں معالج مریض کے پورے جسم کے اوپر اس طرح ہاتھ پھیرتا ہے کہ اس کے ہاتھ مریض کے جسم کو چھونہیں پاتے۔

لیزلے نے اس طریقہ علاج کی باقاعدہ تربیت حاصل کر رکھی تھی چنانچہ ڈاکٹروں کی طرف سے جواب دیئے جانے پر اس نے اپنے باپ وارم گبسن کا خود علاج شروع کر دیا ، جس سے وہ تیزی سے صحت یاب ہونا شروع ہو گیا۔ اس کے صحت مند ہونے کی رفتار دیکھ کر ڈاکٹر بھی حیران تھے۔ اب وارم گبسن کا کینسر مکمل ختم ہو چکا ہے اور وہ صحت مند زندگی گزار رہا ہے۔ لیزلے نے میل آن لائن پر شائع ہونے والے آرٹیکل میں بتایا کہ ”مجھ میں بچپن ہی سے یہ پراسرار خوبی تھی کہ میں اپنی طبعی توانائی کے ذریعے لوگوں کے سردرد یا دیگر چھوٹی موٹی بیماریوں کا علاج کر لیتی تھی۔ میں نے فرانسیسی زبان میں ڈگری لی اور صحافت کے شعبے میں قدم رکھتے ہوئے ڈیلی میل جوائن کر لیا۔ میں اس خوف سے اپنی اس خوبی کے متعلق کسی کو نہیں بتاتی تھی کہ کہیں اس کا میرے پیشے پر برااثر نہ پڑے۔ میں اپنے بعض ساتھی ورکرز کے سردرد وغیرہ کا علاج کردیتی تھی تاہم ان سے وعدہ لیتی کہ وہ اسے مخفی رکھیں گے۔ وہ مجھ سے اصرار کرتے کہ مجھے اس کی باقاعدہ تربیت لینی چاہیے، پھر ایک بار میرا ایکسیڈنٹ ہوا جس میں مجھے ایک طبعی توانائی کے ذریعے علاج کرنے والی خاتون سے علاج کرانا پڑا۔ اس کو جب میری اس صلاحیت کا علم ہوا تو اس نے مجھے مجبور کیا کہ میں بھی یہ باقاعدہ سیکھوں، چنانچہ اس کے کہنے پر میں نے اس طریقہ¿ علاج کی تربیت لی۔ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ یہ تربیت میرے اس قدر کام آئے گی کہ میں اس کے ذریعے اپنے باپ کو بچا پاﺅں گی۔“